Youth Voices

والدین کی عزت – منطقی ترازو

By FD.Sheikh
PAC
Pakistan – Dubai

Image source: fashioncentral.pk

 

ماں جب اپنی اولاد کو جنم دیتی ہے، اس کو کھلاتی پلاتی ہے، پالتی ہے، اچھے، برے سے منع بھی کرتی ہے۔ ایسے میں اسے بسا اوقات ڈانٹ ڈپٹ کا سہارا بھی لینا پڑ جاتا ہے۔  عمر کے اس حصے میں، اولاد ماں باپ کے آگے جواب دہ بھی ہوتی ہے۔  وقت گزرتا چلا جاتا ہے۔ زندگی کا پہیااپنی دائمی منزل کی جانب رواں رہتا ہے اور پھر ایک وقت ایسا آتا ہے جب اولاد قد کاٹھ میں والدین کے  قد کاٹھ کے برابر ہوجاتا ہے۔ اور پھر زندگی دھیرے دھیرے ایک نیا رخ اختیار کرتی نظر آتی ہیے، جب چاندی والدین کے بالوں پہ ڈیرے جمانے لگتی ہے اور پھر اولاد کے کاندھے پہ، عموما”، والدین کو “پالنے” کی ذمہ داری آن پہچجتی ہے۔

والدین کو “پالنے” کا لفظ احساسات وجذبات کے دریچے میں معیوب ساتو لگتا ہے مگر منطقی اعتبار سے یہ بات کافی حد تک قابل فہم ہے کہ والدین جب بوڑھے ہوجاتے ہیں تو وہ بچوں سے ہو جاتے ہیں اور اولاد کے لیے ایک ذمہ داری بن جاتے ہیں۔ جوان اولاد کو ان کو “پالنا” پڑ جاتا ہے اور بسااوقات ان کو “سمجھانا” بھی پڑ جاتا ہے کہ ابا/اما جی ویسے نہیں، ایسے۔۔۔وہ نہیں، یہ۔۔۔۔آج نہیں، کل۔۔۔  اور پھر کچھ (بدقسمت) نوجوانوں کے نصیب میں والدین کو ڈانٹنا بھی لکھاجاتا۔۔۔ والدین کو “اچھے، برے” کی تمیز سکھانا بھی نصیب میں لکھ دیا جاتا ہے۔ اور پھر بسااوقات تو  والدین کو اپنی ہی اولاد کی عدالت میں جواب دہ بھی ہوجاتے ہیں کہ انہوں نے ایسا کیوں کیا، ویسا کیوں نہیں کیا۔  کجھ اہم قدم اٹھانے سے پہلے اورلا د سے ہو بہو ویسے ہی اجازت بھی طلب کرنی پڑجاتی ہے جیسے اس(جوان اولاد) کو اپنے بچپن والدین سے کرنے کی  ضرورت ہوا کرتی تھی ۔

ان سب باتوں کومذہب، اخلاقیات، اور جذبات و احساسات کے ترازو {جو ہمیں والدین کی ہر حال(ماسوائے شرک) میں فرمانبرداری کا حکم دیتا ہے} سے قطع نظر، اگر منطق کے ترازو میں پرکھا جائے تو یہ سب اتنا معیوب معلوم نہ ہو۔ والدین بھی تو آخر انسان ہی ہیں نا۔۔۔ان سے بھی تو غلطی سرزد ہو سکتی ہے۔۔۔۔ان کو بھی بات سمجھنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے نا۔۔۔ اور پھر اولاد بھی تو انسان ہے نا! وہ بھی تو غصہ میں آسکتی ہے، والدین کی گستاخی کر سکتی ہے۔۔۔ سو اس اعتبار میں ایک بےحس انسان کے لیے والدین کو “سمجھانا”، ان کو ڈانٹنا / سخت لہجے میں بول پڑنا کافی منطقی ہے مگر اسی منطق میں ایک منطق ایسی بھی ہے جوپیچھے بیان کردہ تمام منطقوں کو شکست دے دیتی ہے اور احساسات و جذ بات سے آری بےحس اولاد کو بھی والدین کی عظمت کے سامنے سر نگوں کرنے پر مجبو ر کر دیتی ہے، وہ ہے جنم دینے کی اور پالنے پوسنے کی منطق! یہ ایک ایسا احسان ہے جس کا کوئی متبادل نہیں۔ اور جس کی وضاحت کی بھی ضرورت نہیں۔  اب قابل فکر اور قابل غور بات یہ ہے کہ والدین سے اونچی آواز میں، بد تمیزی سے بات کرنے والی، ان کو اپنے اپر بوجھ سمجھنے والی اولاد ، بےحس اور احساسات و جذبات سے آری انسانوں کے درجے سے بھی کئی گنا نچلے درجے پر ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔