Youth Voices

رمضان اور ہم مسلمان

By Sadiya Akhtar
Punjab University
Lahore

Image source: diggwallpapers.com

 

 پرکیف ماحول، روحانی سکون، فضامیں گونجتی درود کی صدائیں، مسجدوں میں رونقیں، ہر سو اللہ کا ذکر، تقدس، احترام اور بہت سے دلفریب مناظرماہ رمضان کاخاصہ ہیں۔ رمضان مہینہ ہے رحمتوں کا، صبر وشکر کا، گناہوں سے معافی مانگنے کا، دوزخ سے نجات پانے کا اور اللہ کی ان گنت نعمتیں اکٹھی کرنے کا۔  مسلمان اللہ کے قریب جتنا اس ماہ مبارک میں ہو جاتے ہیں اتناکسی اور ماہ میں نہیں ہو پاتے۔

مگر ان سب باتو ں کے باوجود، جب کبھی تصویر کے دوسرے پہلو کی طرف نظر ڈالنے کا موقع ملے تو بسااوقات مایوسی ہر سو ڈیرے ڈالتی نظر آتی ہے اور پھر دل ہی دل میں شرمندگی کی سی کیفیت بھی طاری ہونے لگتی ہے۔ ہم میں ایسے بہت سے لوگ موجو ہیں، جو کسی نہ کسی اعتبار سےاس ماہ مبارک میں دوسروں کو دھوکہ دینے میں ہروقت سرگرم عمل نظر آتے ہیں۔ ایک طالب علم بسااوقات یہ سوچ کر اپنے کالج کا م نہیں کرتا کہ “یارمیرا روزہ ہے، اتنامحنت طلب کام کیسے کروں روزے کےساتھ ۔” اور پھر زندگی کے دوسرے شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی کچھ ایسا ہی عذر تلاش کرتے ہیں۔ چاہے بات کسی آفس بوائے کی ہو یا کسی بڑے بزنس مین کی، روزے کی آر میں اکثر ہم لوگ اپنے روز مرہ کے فرائض سے جان چھڑوانا چاہتے ہیں۔ ہم لوگ نمازیں تو باجماعت ادا کر نا شروع کر دیتے ہیں مگر ہمارے رویے پہلے جیسے ہی رہتے ہیں بلکہ شاید  ان کا گراف پہلے سے بھی قدرے نیچے آجاتا ہے۔ دکاندار چیزیں بیچتے ہوئے جھوٹ کا سہارا لینا نہیں چھوڑتا،روزمرہ استعمال کی اشیا مہنگے داموں فروخت کرتا ہے، گھروں میں خواتین غیبت کرنا نہیں چھوڑتیں، دفاتر میں مرد حضرات ایک دوسرے کی برائیوں سے گریز نہیں کرتے، وقت پر کام پورا نہیں کرتے اور ایک بار پھر روزے کو اپنے دفاع کے طور پر استعمال کرتے نظرآتے ہیں۔

قابل تشویش بات یہ ہے کہ کچھ دکاندارسستے بازاروں سےاس نیت کے ساتھ اشیا اکھٹی کرتے ہیں کہ رمضان مین مہنگے داموں پیچ کے زیادہ منافع کمائیں گے۔ چند روپوں کی خاطر، اس عارضی منافع کی خاطر ہم دوسروں کے لیے تکلیف کا ساماں پیدا کر رہے ہوتے ہیں او روہ بھی اس بابرکت مہینہ میں۔ پھر روزہ رکھ کر یو ں کہنا کہ “میرا روزہ تھا، کام نہیں کر سکا۔” یا “میرا روزہ ہے، مجھے تنگ نہ کرو۔”، سرا سر غلط ہے۔ روزہ رکھ کر ہم کسی بندے پر احسان نہیں کر رہے ہوتے۔ ہم پر روز مرہ کے معمول ویسے ہی لاگو ہوتے ہیں جیسے عام دنوں میں۔ ویسے بھی طبعی نقطع نظر سے روزہ صحت کے لیے کافی فائدہ مند ہے۔

گیارہ ماہ گناہوں میں ڈوبارہنے کے بعد ماہ رمضان ہمیں ایک موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم اپنی عادتوں اور رویوں کو پھر سے سدھار سکیں۔ اگر ہم اس ماہ مبارک میں بھی خود میں کوئی تبدیلی نہ لا سکیں، تو یہ ہمارے لیے انتہائی بدنصیبی کی بات ہے۔ رمضان کے سب فائدے ہمارے لیے ہیں۔ ہمیں اس ماہ مبارک کی سب رحمتوں اور برکتوں کو سمیٹنے کے ساتھ ساتھ ، اپنے روز مرہ کے فرائض بھی پوری ایمانداری کے ساتھ ادا کرنے چاہئیں۔ ہماری یہ ایمانداری بھی ہمارے لیے باعث ثواب اور باعث رحمت ہوگی۔ اللہ ہیمیں رمضان کی اصل روح سمجھنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطاپر مائے۔ آمین