Youth Voices

زمین کی پکار

Naveed Hussain

 (IESE, NUST)

Image source: solcomhouse.com

حرارت بڑھ رہی ہے، بے زباں زمیں پکارتی ہے
!اے میرے ہم نشینو
ہنس کے جیو، کھیلو کُودو میرے سینے پر
جو چاہے، اپنی آسائش کی خاطر
میرے سینے کو چیرو،پھاڑ دو بے شک
مجھے منظور ہے یہ سب
!مگر دیکھو
بہت اوقات، بہت سے کام میں غفلت برتتے ہو
تیری بے جا لا پرواہی
مجھے برباد کر تی ہے
مجھے پل پل رولاتی ہے
تیرے کرتوت کی وجہ سے
کاربن ڈائی آکسائیڈ ، میتھن
اور دوسری گرین ہاؤس گیسیں
کرہء ارض اور اوزن کوکمزور بنا کر
مجھے بے حال کرتی ہیں
تو پھر سورج، نا انصاف حکمران کے مانند
زہر آلود شعاعوں کی
مجھ پہ بارش برساتا ہے

میرا دم گھٹنے لگتا ہے
حرارت بڑھتی جاتی ہے
تپش سے بچنے کی خاطر، گلیشئر ڈھونڈنے لگتی ہوں
پگھلتے جاتے گلیشئر، مگر میں پا نہیں سکتی
مجھے ڈر ہے کہ اس پانی کی خاطر تم
کوئی بڑی جنگ نہ لڑنا

سنو! جس سنگ دلی سے تم ڈی فارسٹیشن کرتے ہو
کبھی سوچا ہے میری سانس کا ذریعہ شجر ہی ہے
خدارا! یوں بے دردی سے اُنہیں کاٹ مت لینا
وگرنہ
!خاکم بدہن
نہ تم ہونگے، نہ میں ہو نگی
نہ مغربی نہ مشرقی، نہ جنوبی نہ شمالی
نہ دیرینہ وفا ہو گی، نہ معطر فضا ہو گی
پھر یوں ہو گا کہ یہ دشمن سیارے راج کر لیں گے
خدارا! شجر لگاؤ، سبزہ اُگاؤ
کرو رحم کچھ، مجھے بچاؤ
مجھے بچاؤ۔۔۔۔