Youth Voices

ایک دعا روضہءرسول(صلی اللہ علیہ وسلم) پر

علی سلیمان
سی آئی آئی ٹی، اسلام آباد

Photo Credit: the Voice of Youth

آئیےہاتھ اٹھائیں ہم بھی
ہم جنہیں رسمِ دعا یاد نہیں
ہم جنہیں، سوزمحبت ک سوا
کوئی بت، کوئی خدا یاد نہیں

(فیض)

ٴٴ‘‘یااللہ، یا رحیم، یاغفار،یاغفور، یاکریم، یا رافع، یا قیوم، یاعظیم،یااول، یاآخر۔۔۔اے میرے مولاتیرایہ ایک معمولی سا بندہ آج تیرا بےحدمشکور ہے۔تو نے مجھ جیسے گنہگار کو اس مبارک مقام پر حاضر ہونے کی توفیق دی۔ میرے مالک مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ میں تجھ سے اور کیا مانگوں، یہ سعادت جو تو نے مجھے عطاکی ہے، یہ میری تمام دعاؤں کی قبولیت ہے۔میں تو شرم کے مارے دھنسا جاتاہوں۔میرےآقا،کہاں مجھ سا اور کہاں تیرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ شہر۔میں تو یہاں کے ادب آداب سے واقف نہیں۔ میں تو اس جاہل دیہاتی کی طرح اس شہرسے ابھی تک متاثر ہو رہا جو پہلی دفع اپنے گاؤں سےشہرآتا ہے اور شہر کی رونقیں دیکھ کے اس کے چودہ طبق رونق ہو جاتے ہیں۔میرا حال بھی، اے مولا، کچھ ایسا ہی ہے۔اسل لیے گزازش ہے کہ اگر مجھ سے بھول ہوجائے تو اسے نظر انداز کرنا۔ میرے مالک تیری رحمت کاسمندر توبیکراں ہے۔
میر ے رب اس سبز گمبندکے سامنے کھڑے ہو کے میری خواہش ہے کہ میں تیرے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوسلام پیش کروں اور انہیں اپنے دل کا حال سناؤں۔ تو تو مولا پہلے ہی واقف ہے میری رگ رگ سے۔ اپنے پیارے نبی کو میرا یہ پیغام پہنچا دے۔
اصلوٰۃالاسلام علیک یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)، یا حبیب اللہ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)، یا خاتم الانبیاء(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)۔ اللہ نے آج مجھے اتنی بار سعادت بخشی ہے اس کے لیے میں اس کا انتہائی شکرگزار ہوں، ورنہ میں نے تو کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ میری اتنی بڑی خواہش بھی پوری ہوسکتی ہے۔یانبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، آپ کے روزہ پر حاضری کے لیے بڑی دور سے اللہ نے مجھے یہاں آنے کی توفیق دی ہے۔ میں اپنے لیے یہ ایک بہت اعزاز کی بات سمجھتاہوں کہ اللہ نے مجھے چنا اپنے دیس کا مقدمہ آپ کے سامنے رکھنے کے لیے، مگر قسم ہے اس اللہ بزرگ وبرتر کی جس کے قبضے میں میری جان ہے،میرے دیس میں ایسے بیسیوں عاشق آج بھی یہاں آنے کو تڑپ رہے ہیں، جن کے سینے  میں شاید میرے سےہزار گنا محبت ہے آپ کے لیے۔ میں بہت ہی عاجزی و انکساری سےآپ کے روبرو اپنے دیس کا مقدمہ پیش کرنےکی جسارت کر رہا ہوں۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرا تعلق اس دیس سے ہے جہاں لوگ آپ سے ٹوٹ کر عشق کر تے ہیں، جہاں آپ کی محبت کو صحیح معنوں میں ایمان کی پختگی کے مترادف تسلیم کیا جاتا ہے، جہاں نہ صر ف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی آپ کا دل سے احترام کرتےہیں اور آپ کے نقش قدم پر چلنے کی خواہش رکھتے ہیں، جہاں صدیوں سے صوفی بزرگوں نے آپ کی سکھائی ہوئی امن ومحبت کی عالمگیر تعلیمات کو کچھ یو ں فروغ دیا ہےکہ آج ہمارے دیس کے ہر باسی کی رگوں میں خلوص، مہمان نوازی، اخوت، ایثار اور بےلوث خدمت جیسےاقدار رچ بس گئے ہیں۔ میرا تعلق اس دیس سے ہے جہاں کے لوگ جب آپ کے شہر حاضر ہو تے ہیں تو ہر ایک کی یہ دیرینہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ ان غاروں کی زیارت کر ے جہاں آپ کے قدم مبارک پڑے تھے اور فرض عبادت نہ ہو نے کے باوجود وہ اس کٹھن مہم کو عبور کرتے ہیں۔ روسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرا تعلق ملک پاکستان سے ہے۔ یہ وہ ملک ہے جو آج سے 64 سال پہلے مسلمانوں کو معاشی آزادی دینے کی خاطر بنایا گیا تھا۔ لیکن اس کے باوجود ، یا نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، سینکڑوں مسائل سے دو چار ہے ۔ ترقی کی بجائے دن بدن تنزلی کی جانب گامزن ہے۔ تباہی کے دھانے پہ اٌن کھڑا ہے۔ یہاں تک کہ آج میرے دیس کا وجود بھی غیر محفوض ہے۔ یانبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  ہم بہت پریشان ہیں۔ شاید ہمارے گناہ اس قدرہیں کہ مشکلات کاہم پہ مسلسل اضا فہ ہوتا چلا جارہا ہے۔ ہماری کچھ سمجھ میں نہیں آرہا کہ یہ ہمارے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔۔ اے میرے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم تھک چکے ہیں۔ہم نے بہت محنت کی اپنے ملک کی خاطر؛ اپنے پیٹ کا ٹے، اپنی جانیں قربان کیں، مگر حالات جوں کے توں ہیں۔ یا نبی اب آپ سے ہی گزارش ہے کہ اک نظر کرم ہمارے دیس پر بھی ڈالیئے تاکہ ہماری بگڑی بھی سنور جائے۔ آپ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو سب کی سنتے ہیں، چاہے وہ اپنے ہوں یاغیر ہوں۔ میری زبانی پاکستان کے کڑورں عوام کی یہ گزارش بھی سن لیجئے۔ اللہ آپ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت و برکات فرمائے۔ آپ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بہت بہت شکریہ۔

بے کس پہ کرم کیجئے، سرکار مدینہ
گردش میں ہے تقدیر، بھنور میں ہے سفینہ
ہے وقت مدد، آئیے بگڑی کو بنانے
پوشیدہ نہیں آپ سے کچھ دل کے فسانے
زخموں سے بھرا ہے کسی مجبور کا سینہ
بے کس پہ کرم کیجیئے، سرکار مدینہ
چھائ ہے مصیبت کی گھٹا گیسؤوں والے
لاللہ میری ڈوبتی کشتی کو بچالے
طوفان کے اُثار ہیں، دشوار ہے جینا
بے کس پہ کرم کیجئے سرکار مدینہ

اے میر ے مولا، یہ بندہ ء گنہگار تیرا بہت ممنون ہے۔ غلطی کوتاہی بخش دینا میرے مالک!