Youth Voices

!اللہ اور اس کے رسول کے نام

Eid Milad un Nabi (SAWW) Special
the Voice of Youth

By FD. Sheikh
Professional Academy of Commerce
Lahore

Image source: www.hajjnewsonline.com


اپنے روزمرہ کے مصروف معاملات میں سے کچھ وقت ہمیں اپنے اللہ، اس کے نبی کے نام کرنا چاہیئے”جلوس سے خطاب کرتے ہو ئے مولانا نے فرمایا۔ مولا نا کے اس خطاب سے پہلے بھی مجھے ایک بات کاخیال آتا ہے کہ ہم دین کو اکثر اپنے روز مرہ کے معاملا ت سے الگ کیوں کر دیتے ہیں۔ اب یہ لازم تھوڑی ہے کہ میں کوئی خصوصی اہتمام کروں کہ میں فلاں فلاں عمل اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کرنے لگا ہوں اور میرا فلاں فلاں دن اللہ اور اس کے رسول کے نام ہے اگر میں آپ سے اچھے اخلاق سے با ت کر لوں تو میرا یہ عمل بھی اللہ اور اس کےرسول کے نا م ہوا، اگر صبح اٹھ کے ماں کو مسکرا کے دیکھ لوں، یہ عمل بھی اللہ اور اس کے رسول کے نام ہوا. اگر میں کپڑے بدلتے وقت بایاں ہا تھ یا ٹانگ پہلے با ہر کروں اور پہنتے وقت دایاں پہلے کروں تو یہ عمل بھی رسول کی سنت ہے سو اسکے نام ہو ا۔


سردیوں کی صبح صبح ایک فقیر میر ے گھر کی بار بار گھنٹی بجائےاور مجھے اپنے گرم بستر کو چھوڑ کر با ہر، ٹھنڈ میں جا نا پڑے اور اس فقیر کو دیکھ کر غصے میں نہ آ وء ں، برداشت کر لوں، اس کی مدد کر دوں یہ عمل بھی اللہ اور اس کے رسول کے نام ہے۔ اگر میں بھری ہوئی بس میں کسی بڑے کو اپنی سیٹ دے دوں تو میرا یہ عمل بھی اللہ اور اس کے رسول کے نام ہے۔ بس والا مجھ سے کسی با ت پر الجھ پڑے، اور میں صبر کا دامں تھا مے رکھوں اور نرمی سے معاملہ سلجھا لوں تو میرا یہ عمل بھی اللہ اور اس کے رسول کے نام ہوامیر ی کا رکا ایکسیڈنٹ دوسر ے آدمی کی غلطی کی وجہ سے ہو جائے،اور میں اسے معا ف کر دوں


میرا یہ عمل بھی اللہ اور اس کے رسول کے نا مہ ہوا


آفس میں جا کر میں اپنے سے چھوٹے آفیسر کو ، سرونٹ کو سلام کروں ، حا ل چال پوچھ لوں، میرا یہ عمل بھی اللہ اور اس کے رسول کےنام ہوا۔ میرا کسی کی بات، درد سننے کو جی نہ کر رہا ہواور میں اس کی با ت دھیا ن سے سن لوں میرا یہ عمل بھی اللہ اور اس کے رسول کے لئے ہوا۔ میں اپنے سرونٹ کے ساتھ اس کے کام میں ہا تھ بٹا دوں، اسکے دکھ درد میں نہ صر ف شریک ہوں بلکہ اسکا حصہ بھی بنوں، میرا یہ عمل بھی اللہ اور رسول کے واسطے ہوا۔ میں بازار شاپنگ کر نے جاوءں اور میرے ساتھ میرا کوئی بچہ نہ ہو (کوئی غبارے لے کے دینے کی ضد کرنے والا نہ ہو ، نہ ہی غباروں کی کوئی ضرورت ہو)اور پھر بھی میں غبارے والے سے غبارے لے لوں، میرا یہ عمل بھی اللہ اور اس کے رسول کے نا م ہوا


میں سار اد ن کام کا ج کر کے تھکا ہوا گھر واپس لوٹوں اور بیو ی بچوںسے ہنس کے بات کروں، کھانا دائیں ہاتھ سے کھا لوں، مہمان کی مہمان نوازی دل سے کر لوں، اور وضو کر کے دائیں کروٹ سو لوں تو میرا کھانا ،پینا، چلنا،پھرنا، سونا، جاگنا، اٹھنا، بیٹھنا، عرض سارا دن، ہر روزاللہ اور اس کے رسول کے نا م ہوا۔


ہر سال بارہ ربیع الاول کو ہم سب نے بہت سے جلوسوں میں شرکت کی ہوگی، محفل نعت کا انعقاد کیا ہوگاچاول بانٹے ہوں گے، جھنڈیا ںلگائی گی، سڑکو ں، گھروں کو سجایا ہوگا۔ اس بحث کا حصی بھی رہے ہوں گے کی آیا بارہ ربیع الاول منانا بھی چاہیے یا نیہں، کیوں نہ اس با کچھ مختلف سا کریں کہ سارا دن ایسے بیتا ئیں کی دن بھر جوبھی کوئی کام کرٰیں تو یہ سو چیں کی اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہوتے تو یہ کا م کیسے کرتے اور یا کرتے بھی یا نہیں۔ ویسے سنت پر تو ہر روز


چلتے بھرتے عمل کر نا چا ہئے مگر آج کچھ خاص خیا ل اور دھیان دے کر دیکھیںاور پھر شا ید ہمارا یہ عمل ہماری عادت بن جائےاور پھر یوم ولادت پر اس نبی کے لیے، جو اپنے وقت نزع تک اپنی امت کی خیر و بھلا ئی کا فکر مند تھا، اس تخفے سے بھر کر کوئی اور تحفہ نہیں ہوگا کہ اس کی امت اسکی سنت کو اپنا لےاور دنیا آخر ت کی خیر وبھلائی اپنے نام کر لے