Youth Voices

کس کے ہاتھ پر میرا لہو ہے

By Amber Saleem
Allama Iqbal Open University
Islamabad

Image source: stress-free-vibe.com

ہمارے جذبات نہ سمجھ میں آنے والا عجب گورکھ دھندہ ہیں جو بعص اوقات ایسے افراد کیلئے اْ مڈ آتے ہیں جن کا ساتھ بس لمحوں پر مخیط ہوتا ہے لیکن اْن کا دکھ دل کی اتھاہ گہرائیوں سے محسوس ہوتا ہے ۔ مسلسل تین دن تک آج تیسرا دن تھا مجھے اْ س لڑکی کو چپ کی د بیز چادر میں لپٹے دیکھتے ہوئے ہر روز کی طرح آج بھی ُ س کی چمکتی سیاہ خزاں زدہ آنکھیں کسی غیرمرئی نقطہ پر کچھ کھوج رہی تھیں جیسے اپنے ہونے کا جواز ڈھونڈ رہی ہوں ۔ میں خود کو اْ س سے بات کرنے سے روک نہ سکی او ر اْ س کے پاس چلی گئی میرے بار بار مخاطب کر نے پر ایک سرد خاموش نظر مجھ پر ڈال کے وہ ایک طرف چل پڑی میں ایک دم افسردہ ہو گئی کہ شائد وہ معصوم لڑکی بولنے کی صلاحیت سے محروم ہے لیکین بعد کی معلومات نے مجھے لرزہ کے رکھ دیا کہ اْ س معصوم کو بولنے کی صلاحیت سے محروم اْ س کے عزت دار اْنچی ناک والے باپ بھائیوں نے کیا ہے اُ س کی چمکتی آنکھوں کو خزاؤ ں کا تخفہ اُ س کے پیاروں نے دیا ہے اُ س لڑکی کی قرآن سے شادی کی گئی تھی اور اپنے خاندانی رسم و رواج کو جانتے ہوئے بھی وہ اْن سے سمجھو تہ نہ کر سکی او ر ذ ہنی مریضہ بن گئی تھی کسی بھائی نے رحم کھاتے ہوئے اْس کو ہسپتال داخل کروا دیا تھا۔

زمانہ جاہلیت میں عورتوں کے ساتھ جانوروں کا سا سلوک کیا جاتا تھا اور ان کو زندہ دفن کر دیا جاتا تھا پھر اسلام کا ظہور ہوا اور عورت کو ایک باعزت مقام دیا گیا ۔ ارشادِ باری ہے “میں نے عورت کو مقدم کیا” ۔ لیکین اگر دیکھا جائے تو آج کے ترقی یافتہ دور میں بھی پاکستان کے کچھ علاقوں میں جاہلیت کا ہی راج ہے مرد ظالم خکمر ا ن اور عورت مظلوم ہے جس کو روایات کی بھٹی میں بڑ ے فخر سے جھونکا جاتا ہے صدیوں سے نوجوان لڑکیوں کی آنکھوں میں سجنے والے خواب اور امید کے دیے کو بڑی بے دردی سے نوچ کر زندہ درگوں کر دیا جاتا ہے اور کیسی عجیب بات ہے کہ کوئی پرسانِ حال بھی نہیں۔ عورت ماں کے روپ میں ٹھنڈی چھاؤں ، بیوی ہو تو ہمدرد ساتھی ، بہن بن کے دوست اور بطور بیٹی رحمت ہے ۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ “جس شخص کی کوئی بہن یا بیٹی ہو اور وہ ا سے زندہ درگوں نہ کرئے اور نہ ذلت اور حقارت کے ساتھ رکھے تو ا للہ ایسے شخص کو جنت میں داخل کرئے گا”۔

اندرونِ سندھ کے قبائل میں یہ قبیخ رواج ہے کہ بہن یا بیٹی کی شادی خاندان میں ہی کی جاتی ہے تاکہ جائداد خاندان سے باہر نہ منتقل ہو اور اگر خاندان میں رشتہ موجود نہ ہو تو بہن یا بیٹی کی شادی قرآن سے کر دی جاتی ہے اس کو خق بخشی بھی کہتے ہیں۔ جس لڑکی کی شادی قرآن سے کرنا ہو وہ غسل کرتی ہے خاندان کا سربراہ اس کا سر سفید دوپٹے سے ڈھانپتا ہے اور مولوی قرآن سے نکاح پڑھا دیتا ہے اس لڑکی کو ہر ردز قرآن پڑھنے کی تلقین کی جاتی ہے اس طرح رسم و رواج کی ماری لڑکی کی ساری زندگی ایک کمرے میں قید ہو کے قرآن کے لئے وقف ہو جاتی ہے۔ اندرونِ سندھ نہ صرف مختلف قبائلی سرداروں کی بہنوں اور بیٹیوں کی شادیاں قرآن سے کی گئی ہیں بلکہ پڑھے لکھے سیاست دان بھی ان میں شامل ہیں جو تقریرں میں تو عورتوں کی آزادی اور ان کے حقوق پر زور دیتے ہیں لیکن اپنے خاندان کی خواتین پر زندگی کا دائرہ انتہائی تنگ رکھتے ہیں کہ وہ کھل کر سانس بھی نہیں لے سکتیں۔ ان قوم کے سپوتوں میں سندھ کے سابق ایم پی اے کی بہن ، سابق وزیر کی بہن اور دو بیٹیاں ، مٹیاری کے میر کی تین بیٹیاں ، اور ان کے علاوہ دوسرے وڈیروں کی بہنیں ، بیٹیاں شامل ہیں۔ ایک سروے کے غیر ختمی نتائج کے مطابق سندھ میں دس ہزار لڑکیوں کو اس رواج کی صلیب چڑھایا جا چْکا ہے۔

یہ وخشیانہ رسم و رواج قطی غیر شرعی اسلام اور قرآن کے منافی ہیں ۔ ہم مسلمان خضور ﷺ کا آخری خطبہ بھول چکے ہیں جس میں آ پ ﷺ نے واضع فرما یا تھا “آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کر دیا ‘ اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی ‘ اور میں نے تمہارے لئے اسلام کو بطور دین پسند کیا” ہم یہ بھول چکے ہیں کہ یہ رسم ہمارے مذہب کے منافی اور اس سے کھلی بغاوت ہے۔

پاکستان میں صرف جائداد کے لالچ میں جیتی جاگتی لڑکیوں کے خواب چھین کے ان کو روایات کی صلیب پر چڑھا دیا جاتا ہے جہاں سے رہائی کی صورت صرف ابدئی موت ہے ناجانے یہ رسم کب سے چلی آ رہی ہے اور کب تک چلے گی کب کوئی اس کے خلاف علم بغاوت بلند کرکے مزید بڑھنے سے روکے گا ۔ اس کا موردِ الزام فردِ واحد کو ٹھہرانا غلط ہے ماں بہن بیوی اور خاندان کی دوسری خواتین بھی اس جرم میں برابر کی شریک ہیں جو ان فرسودہ روایات میں مردوں کا ساتھ دیتی ہیں۔

بظاہر تو ہمارے ملک کا میڈیا بہت سرگرم نظر آتا ہے پولیس کی چھترول کے فوٹیج ہوں یا ثانیہ ، شعیب کی شادی کا معاملہ ہر خبر کو منظر عام پر لانے کے لئے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشیش کی جاتی ہے کہ ہم نے پہلے یہ خبر نشر کی ہے دن رات بحث لاحاصل پروگرام کئے جاتے ہیں لیکین افسوس کبھی اس حساس موضوع کو حالاتِ خاضرہ کے پروگرام میں نہیں چھیڑا گیا۔ کبھی اس ظلم کے خلاف فوٹیج نہیں چلائی گئی۔ یا اس طرف دھیان اس لئے نہیں دیا جاتا کہ اس رسم و رواج کی پشت پناہی وہ وڈیرے اور جاگیر دار کرتے ہیں جو اسمبلیوں میں بیٹھے ہیں؟ میڈیا کو چاہیے اپنا مثبت کردار ادا کرتے ہوئے اس طرح کے انسانیت سوز رسم و رواج کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے حکام بالا کی اس طرف توجہ دِلائے اور اسمبلی میں اس طرح کی فرسودہ رسم و رواج کے خلاف بل منظور کروایا جائے اور ذمہ دار افراد کو سزا دی جائے تاکہ ہماری آنے والی بیٹیوں کی آنکھوں کے خواب سلامت رہیں اور وہ ان کی تعبیر پا سکیں ۔

ا مبر سلیم لاہور
علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی