Youth Voices

خطا – اقرار – عظمت

By FD. Sheikh
Professional Academy of Commerce
Lahore

Image source: businessgrow.com

انسان خطاؤں کا پتلا ھے۔ غلطی ھو جانا تقاضاءبشریت ھے۔ مگر غلطی ھو جانے کے بعد اس کا اقرار کر لینا، اپنی غلطی پر دل سے نادم ھونا اور مستقبل میں اس سے اجتناب کرنے کا قویٰ ارادہ رکھنا، ایک انتھائ قابل ستائش عمل ھے۔ ایسے لوگ داد کے اور دل سے معاف کر دیے جانے کے یقینی طور پر مستحق ھوتے ھیں۔ مگر انسان کے اس قابل ستاءش عمل پر کیچڑ اس وقت پڑتا ھے جب انسان میں یہ تین احساسات (غلطی کا اقرار کرنا، دل سے نادم ھونا اور اجتناب کا قویٰ ارادہ رکھنا) کے علاوہ، “داد طلبی” کا ایک چوتھا احساس بھی جنم لے لے۔ یعنی انسان کے رویے میں (غلطی کا اقرار کر کے، سوری بول کے) ایک “بڑا کارنامہ انجام دینے” کی جھلک دیکھنے کو ملے جس سے یہ ظاہر ہو کہ ایک بہت بڑا اور اچھا کام کیا ہے اور اپنے اس عمل پر داد کا مستحق بھی ہے۔

اس بات سے انکار نہیں کہ ایسے انسان نے یقیناً ایک بہت اچھا عمل کیا ہے اور وہ یقیناً اپنے اس اچھے عمل کو جتانا، دادطلب آنکھوں سے دوسروں کو تکنا، ایسے انسان میں “اناپرستی” کے بےج بو دیتا ہے۔ ایسا انسان غلطی کا اقرار تو کر لیتا ہے، مگر نستقبل بعید میں نا چاہتے ہوءے بھی اسطرح کی غلطیاں کر بیٹھتا ہے (یا کر بیٹھنے کا قویٰ امکان ہوتا ہے) اور اس کی اہم وجہ انسان کی اناپرستی کے وہ بیج ہوتے ہیں جو اس وقت دادطلب رویے کے باعث، اب انسان میں سرایت کر چکے ہوتے ہیں۔

اپنی اب تک کی زندگی میں میں نے آج تک جتنے بھی افراد کو اپنی غلطی پر شرمندہ ہوتے دیکھا ہے، بدقسمتی سے ان میں سے زیادہ تر کو ایسا ہی ٌپایا جو شرمندگی کا اظہار کرتے تو ہیں مگر دادطلب رویے کے ساتھ ۔ ان کا “winning attitude” ہوتا ہے۔ داد اس بات کی مانگتے ہیں کہ انہوں نے سوری بول کر بہت بڑے جگرے کا کام کیا ہے۔

اس کے برعکس، انسان میں ایسے موقع پر دادطلب رویہ نہ ہونا انسان کے عاجز ہونے کی گواہی دیتا ہے۔ ایک ایسے انسان کی گواہی دیتا ہے جس میں اناپرستی نہیں ہوتی۔ ایسا انسان ہی حقیقی معنوں میں عظیم ہوتا ہے۔ اس کا دل، اس کی سوچ، دونوں بہت وسیع ہوتے ہیں۔ اور پھر دوسروں کے دلوں میں بھی ایسے انسان کے لئے قدرتاً ہی کافی وسعت پیدا ہو جاتی ہے۔ جو انسان اللہ تعالیٰ کی خاطر جھک جاتا ہے، اس کو اللہ تعالیٰ خود اونچا کر دیتا ہے۔ ان کا جھکاؤ انسانی دل کو نرم سا کر دیتا ہے اور اس میں اپنی جگہ بنا لیتا ہے۔ اور شاید یہی قانون قدرت بھی ہے۔ ۔ ۔ ۔