Youth Voices

جانے کیسی بستی تھی

By Haider Mairaj
National University of Computers and Emerging Sciences
FAST Islamabad

Photo contributed by the author.

جانے کیسی بستی تھی
زندگی بہت ہی سستی تھی
اجڑے گھر اور بکھرے وجود
خالی گھر دیوارے موجود
ہر طرف ہی پانی پانی
پر پینے کو میسّر نہیں پانی
اجڑے بال خاموش آنکھیں
شکستہ وجود، سہمی آنکھیں
نہ کوئی جوتی نہ کوئی چھت
سیلاب سے گھائل بستی تھی
کیا میں تمکو بتلاؤں
انکی کہانی کیا تمھیں سنو
جانے کیسی بستی تھی
بھوک ہی وہاں پی بستی تھی
بھوک سے بھری ہی آنکھیں
موت سے بھاگتی ہی آنکھیں
ڈر میں لپٹی ہی آنکھیں
خوف سے سجی ہی آنکھیں
شائد آنکھوں کی ہی بستی تھی
کیوں کے موت ہر وقت ڈستی تھی
پھر بھی زندگی وہاں پی سستی تھی
جانے کیسی بستی تھی