Youth Voices

کھوکھلے لوگ

By Haider Mairaj
National University of Computers and Emerging Sciences
FAST Islamabad

Image source: thomashawk.com


.سوچ اور فکر اور طالب اور مطلوب کی سمتیں ہمیشہ مختلف ہوتی ہیں. تقسیم اور چناؤ ہمیشہ سے مختلف ہوتا ہے. مجھے یاد ہے آج بھی جب میں اور بابا گجرانوالہ گئے تو میرے والد نے مجھے کہا کتنا تکلیف دہ ہوتا ہے نا جب آپ کسی شہر میں جائیں اور اسکا کرایا ٢٥(21) آنے ہو اور پھر وہیں کا کرایا ٤٢٠ (420) روپے ہوجائے. کتنا کچھ بدل گیا. تم لوگ نہیں سمجھو گے. کتنی تکلیف دیتی ہے یہ چیز
میں سوچنا شروع ہوگیا کہ کیا ہم سے پہلی نسلوں نے سب دیکھا. کیا ایوب سے لے ک بھٹو تک اور بیس آنوں سے چار سو بیس روپیوں تک کا سفر دیکھا مگر اچانک میرے ذہن نے اس بات کو رد کر دیا. شائد ہم نے بھی بہت کچھ دیکھا. بہت چوٹی سی عمر میں بہت کچھ سیکھا ہم نے. آج کا نوجوان ٢٠٠٥ (2005) کے زلزلوں کے وقت بھی اٹھا، چیف جسٹس ک حق ک لئے آج کا ہی للّو پنجو اٹھا اور جب وانا کو جلتے دیکھا، سوات کو چیختے اور پنجاب کو بھوک سے مرتے دیکھا تو لکھنے والو نے لکھا کہ ہم نے “فیس بک” پہ سٹیٹس رکھے مگر ہم مے سے کسی نے نہیں کہا کہ ہم تباہ ہوگئے. کسی نوجوان نے ملک کے ڈوبنے کی وجہ سے خودکشی نہیں کی اور جب گزشتہ مہینے الله کے عذاب کی شکل میں خیبر پختونخواہ کو بپھرتے، دریاوں کا لقمہ بنتے دیکھا تب بھی ہم میں سے ہی لوگ اٹھے اور مدد کو نکلے.
یہ مٹی اتنی بنجر نہیں ہے جتنی نظر آتی ہے. لوگوں کو “ایمینیم” کے گانوں پہ سر دھنتے ہم نظر تو آتے ہیں مگر جب ہم ہاتھ پھیلا کر اپنے لوگوں کی مدد کو نکلتے ہیں تو نہ جانے کیوں لوگوں کی آنکھ بند ہوجاتی ہے. میرا خیال ہے کہ یہ مٹی کم سے کم سوچتی ضرور ہے. چاہے کرکٹ کا کھیل ہو یا قدرتی آفت سے جنگ، ہم یقین کا دامن اپنے ہاتھ سے نہیں جانے دیتے
مگر میرے ملک کے وہ لوگ جو ہر شام ہم سب کے گھروں میں ٹی وی کی سکرین پہ جلوہ گر ہو کر اپنی ٹی آر پی کی خاطر حقیقت سے آنکھیں چھپا کر کبھی جعلی ڈگریوں پہ قوم کو بربادی کی وعید سناتے ہیں تو کبھی ہمارے رہنماؤں کو بات بےبات تنقید کا نشانہ بناتے ہیں. میرے الفاظ کا مقصد ہر گز یہ نہیں ک وہ حکمران اچھے ہیں مگر وہ جیسے بھی ہیں ہمارے ہیں. کیونکہ میرے الله پاک نے فرمایا ہے کہ جیسی قوم ویسے حکمران. مگر میرا خیال ہے کہ اگر واقعی کسی کو اس قوم کا خیال ہے تو اٹھے اور اپنی ٹی وی سکرین پہ آ کر لوگو سے کہے کہ دل کھول کے لوگو کی مدد کرے اور ساتھ اپنی تنخواہیں بھی ان لوگوں کو دیں اور وہ تمام تر سیاست دان جو دوسروں پہ کیچڑ اچھالتے ہیں خدارا اس وقت اپنے اندرون اور بیرون ملک اثاثے اپنے لوگو میں تقسیم کریں کیونکہ یہ انہی لوگوں کا مال ہے اور اگر ایسا نہ کیا گیا تو شائد فرانس کے انقلاب کی اک شکل ان حکمرانوں اور ٹی وی انکرز کو بھی دیکھنی پڑے کیونکہ یہ وہ وقت نہیں کہ دوسروں پہ کیچڑ اچھالا جائے اور اپنی شہادتوں اور دوسروں کی غداریوں کا رونا رویا جائے. میرے نزدیک اس وقت ذاتی انا سے بڑا مثلہ قوم کی بقا ہے. ہم بہت کھوکھلے نہیں ہیں مگر ہم جن کے آگے منہ پہ قفل باندھتے ہیں وہ ضرور کھوکھلے ہیں کیونکہ خدا ایسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جسے خود خیال نہ ہو اور وہ صرف باتیں کرے اور اک دوسرے پہ انگلیاں اٹھائے. اورآخر میں ان کھوکھلے لوگوں کے لئے جو آئے دن کسی نہ کسی سے مسلے کی وجہ پوچھتے ہیں انھیں بتاتا چلوں کہ ارشاد باری تعالٰی ہے کہ خدا اس بستی کی مثال دیتا ہے جس میں امن بھی تھا اور سکون بھی اور رزق بھی فراوانی سے ملتا تھا. انہوں نے ناشکری کی اور میں نے انھیں بھوک اور خوف کا لباس پہنا دیا. پنجاب دنیا کا غلہ گھر تھا اور آج پورے ملک میں بھوک ناچتی ہے اور خوف ایسا کہ اب بارشوں اور درگاہوں سے بھی ڈر لگتا ہے… اور ایک طرف ذاتی انا اور کچھ کھوکھلے لوگ۔۔۔