Youth Voices

ہماری بنیاد

By Haider Mairaj
National University of Computers and Emerging Sciences
FAST Islamabad


Image source: whudat.com

مجھے بارشوں سے محبت تھی
پھر ابرکرم اتنا برسا کہ
گاؤں کے گاؤں بھیگ گئے
کچھ لوگ گھر سے بےگھر ہوئے
کچھ جیتے جی ہی مر گئے
کچھ بستیاں تھیں جو اجڑ گئیں
کچھ وادیاں تھیں جو بپھر گئیں
ننھی کی گڑیہ کدھر گئی
اما کی لاش بھی بہہ گئی
دادی کی پر سکون آنکھیں
مجھ سے اتنا ہی کہہ گئیں
یہ ملک تمہاری ہستی ہے
ہر بستی تیری بستی ہے
تو کیا ہوا اگر اب کے برس
زندگی آٹے سے سستی ہے
یہ ملک کبھی نہ ٹوٹے گا
ہاتھوں سے ہاتھ نہ چھوٹے گا
مولا خفا ہے ہم سب سے
پر وہ کب تلک روٹھے گا
جو کہتے ہیں ہم مر جائیں گے
آفتوں سے ڈر جائیں گے
چاہے کوئی جو بھی کہہ جائے
کوئی سخن بستی میں نہ رہ جائے
پھر بھی نہ کوئی شکوہ نہ گلا ہے
ہماری بنیاد الااللہ ہے